کٹیہار میں خوفناک سڑک حادثہ، 13 افرادکی موت
کٹیہار، 12 اپریل (وقت نیوز سروس)۔ہفتہ کی دیر رات کوڑھا بلاک کے بسگڈا چوک کے قریب قومی شاہراہ 31 پر تیز رفتار اور نشےنے 13 افراد کو موت کے گھات اتار دیا ۔ ہردا سے پورنیہ آ رہی بس نے پہلے دو بائک سواروں کو کچل دیا اور پھر ایک پک اپ سے ٹکرا گئی۔ حادثے میں 10خواتین،2مرد اور ایک بچی سمیت 13 کوگوں کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔ اموات میں 11 پورنیہ اور 2 کٹیہار ضلع کے رہائشی تھے۔ مرنے والوں میں تلو سورین (48)، رادھیکا ہسدا (19)، تلمی دیوی (40)، پپو ہسدا، تلپو سورین ، تانا توڈو، باٹیکا مرانڈی ، پپو دیوی، چنتا منی مہتو(35)، سدا نند مرمو ، درگا باشکی (60)، رنجیتا ہیمبرم (55) اور ایک کی شناخت کی جارہی ہے۔ حادثے میں 32 سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔ 8 کی حالت تشویشناک ہے۔ ابتدائی طبی علاج کے بعد شدید زخمیوں کو پورنیہ جی ایم سی ایچ ریفر کر دیا گیا۔ جائے وقوعہ پر موجود عینی شاہد اتباری باسوکی نے بتایا کہ بس تیز رفتاری سے چل رہی تھی اور ڈرائیور نشے میں تھا۔ بس نے پہلےبڑہڑا کوٹھی سے لوٹ رہے سدانند مرمو عرف راجیش (40) اور ان کے بیٹے کو کچل دیا۔ دونوں کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ اس کے بعد بے قابو بس جھارکھنڈ کے کاٹھیا میلے سے واپس آرہے عقیدت مندوں سے بھری پک اپ سے ٹکرا گئی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ لاشیں سڑک پر بکھر گئیں۔ زخمی تالا ہنسدا نے بتایا کہ پک اپ میں سوار افراد جھارکھنڈ میں ایک مذہبی تقریب سے پورنیہ واپس آرہے تھے۔ ان کے ساتھ ان کا بیٹا، بہو اور پوتے بھی تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کوئیرا تھانہ علاقے میں گیڈاباری کے قریب ایک زوردار شور ہوا اور سب ایک دوسرے پر گر پڑے۔ اس واقعے میں ان کے بیٹے اور بہو کی موت ہوگئی۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ شیکھر چودھری نے بتایا کہ تمام زخمیوں کا علاج چل رہا ہے۔ حادثے کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ بس ڈرائیور بھی زخمی ہے قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ضلع مجسٹریٹ آشوتوش دویدی نے کہا کہ مرنے والوں کے لواحقین کو وزیر اعلیٰ ریلیف فنڈ سے 2 لاکھ روپے کی امداد دی جائے گی۔