منی لانڈرنگ کیس میں معروف پاکستانی ماہر امراض جلد ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی عبوری ضمانت بحال
اسلام آباد، 31 مارچ (ہ س)۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں معروف پاکستانی ماہر امراض جلد ڈاکٹر فضیلہ عباسی کی عبوری ضمانت ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں پر بحال کر دی۔ کیس کی سماعت جسٹس محمد اعظم خان کی سربراہی میں بنچ نے کی۔ بنچ نے اسے مزید کارروائی کے لیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی بھی ہدایت کی۔ دنیا نیوز نے بتایا کہ سماعت کے دوران ڈاکٹر فضیلہ عباسی اپنے وکیل نعیم بخاری کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئیں۔ ادھر اداکار حمزہ علی عباسی نے واضح کیا کہ وہ اپنی بہن کے کیس میں ملوث نہیں ہیں۔ وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فضیلہ تین بار عدالت میں پیش ہوئیں۔ ایک بار، وہ پیش ہونے میں ناکام رہی اور تین دن کا میڈیکل سرٹیفکیٹ جمع کرایا، پھر بھی اس کی ضمانت منسوخ کر دی گئی۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد عبوری ضمانت بحال کر دی۔ قابل ذکر ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس کے 22 بینک اکاو¿نٹس کا ٹرن اوور تقریباً 25 ارب روپے تھا، جب کہ اس کی اعلان کردہ سالانہ آمدنی صرف 400,000 سے 600,000 روپے تھی۔ڈاکٹر فضیلہ عباسی ایک مشہور ماہر امراض جلد اور جمالیاتی معالج ہیں۔ وہ اسلام آباد اور دبئی میں کلینک چلاتی ہیں۔ انہیں پاکستان میں لیزر ٹیکنالوجی اور جدید جمالیاتی طریقہ کار (جیسے ڈرمل فلرز) کو مقبول بنانے کا سہرا جاتا ہے۔ وہ اسلام آباد میں ڈاکٹر فضیلہ عباسی اسکن اینڈ لیزر انسٹی ٹیوٹ کی بانی اور سی ای او ہیں اور دبئی میں یورومیڈ کلینک میں پریکٹس بھی کرتی ہیں۔