
گنگا سمیت کئی ندیوں کی پانی کی سطح خطرے کے نشان سے اوپر، سیلاب کی زد میں پٹنہ کے کئی علاقہ
پٹنہ، 6 اگست (وقت نیوز سروس)۔ بہار کے دیگر اضلاع کے ساتھ راجدھانی پٹنہ بھی سیلاب کی زد میں ہے۔ راجدھانی پٹنہ سمیت پوری ریاست میں گنگا، پن پن اور سون ندیاں سیلاب سے تباہی مچا رہی ہیں۔ گنگا اپنے کنارے کو توڑ کر شہر کی طرف بڑھ رہی ہے۔ جس کی وجہ سے عوام کی روزمرہ کی زندگی پانی کے جال میں الجھ گئی ہے۔ سنٹرل واٹر کمیشن کی تازہ رپورٹ کے مطابق پٹنہ کے نشیبی علاقوں جیسے دیگھا، گاندھی گھاٹ، گائے گھاٹ، گلبی گھاٹ، عالم گنج اور بند ٹولی میں گنگا کا پانی خطرے کے نشان سے کئی سینٹی میٹر اوپر بہہ رہا ہے۔ صبح 6 بجے دیگھا گھاٹ پر پانی کی سطح خطرے کے نشان سے 36 سینٹی میٹر اوپر تھی، جب کہ گاندھی گھاٹ پر یہ تعداد 97 سینٹی میٹر تک پہنچ گئی ہے۔ صورتحال مزید خوفناک ہوتی جارہی ہے کیونکہ پانی کی سطح اب بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ گلی اور محلہ میں کمرتک پانی، سڑکوں پر موت کی سرسراہٹ اور گھروں کے صحنوں میں تیرتے سانپوں سے پٹنہ کے لوگ اس وقت خوف اور بے بسی کی دوہری مار جھیل رہے ہیں۔ دانا پور کی جج کالونی میں گندے پانی کی نکاسی نہیں ہو رہی جس کے باعث لوگ دروازے پر سانپ دیکھ کر راتیں جاگ کر گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس سانحے میں حکومتی امداد کہیں گم ہے۔ کرجی موڑ کے قریب بند ٹولی میں، لوگ ربڑ کی ٹیوب کشتیوں میں اپنی جان خطرے میں ڈال کر سفر کر رہے ہیں۔ مقامی نوجوان سوربھ کمار نے کہا کہ اس نے اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے اپنی ملازمت سے چھٹی لی کیونکہ "پانی اس سے زیادہ خطرناک ہے۔ پینے کے پانی کی قلت، بیت الخلا کا بحران، اور طبی ایمر جنسی صورتحال - سب ایک سوال پر ابلتے ہیں: "سرکاری کشتی کب آئے گی؟" لوگ پلاسٹک کی چھتوں اور بانسوں کی مدد سے اونچی جگہوں پر پناہ لے رہے ہیں۔ پٹنہ ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کشتیوں کی آمد ورفت جلد ہی شروع ہو جائے گا اور کمیونٹی کچن اور جانوروں کے لیے چارہ فراہم کیا جائے گا۔ زونل حکام کو رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے لیکن جب تک رپورٹ تیار ہو گی کوئی نہیں جانتا کہ کتنے گھر سیلاب میں بہہ جائیں گے۔